وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدۡخُلُوۡا مِنۡۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادۡخُلُوۡا مِنۡ اَبۡوَابٍ مُّتَفَرِّقَۃٍ ؕ وَ مَاۤ اُغۡنِیۡ عَنۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ ۚ وَ عَلَیۡہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿۶۷﴾

(67 - یوسف)

Qari:


And he said, "O my sons, do not enter from one gate but enter from different gates; and I cannot avail you against [the decree of] Allah at all. The decision is only for Allah; upon Him I have relied, and upon Him let those who would rely [indeed] rely."

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

[وَقَالَ: اور اس نے کہا] [يٰبَنِيَّ: اے میرے بیٹو] [لَا تَدْخُلُوْا: تم نہ داخل ہونا] [مِنْ: سے] [بَابٍ وَّاحِدٍ: ایک دروازہ] [وَّادْخُلُوْا: اور داخل ہونا] [مِنْ: سے] [اَبْوَابٍ: دروازے] [مُّتَفَرِّقَةٍ: جدا جدا] [وَمَآ اُغْنِيْ: اور میں نہیں بچا سکتا] [عَنْكُمْ: تم سے (کو)] [مِّنَ: سے (کی)] [اللّٰهِ: اللہ] [مِنْ شَيْءٍ: کیس چیز (بات) سے] [اِنِ: نہیں] [الْحُكْمُ: حکم] [اِلَّا: سوا] [لِلّٰهِ: اللہ کا] [عَلَيْهِ: اس پر] [تَوَكَّلْتُ: میں نے بھرسہ کیا] [وَعَلَيْهِ: اور اس پر] [فَلْيَتَوَكَّلِ: پس چاہیے بھروسہ کریں] [الْمُتَوَكِّلُوْنَ: بھروسہ کرنے والے]

Tafseer / Commentary

چونکہ اللہ کے نبی نے حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے بچوں پر نظر لگ جانے کا کھٹکا تھا کیونکہ وہ سب اچھے ، خوبصورت ، تنو مند ، طاقتور ، مضبوط دیدہ رو نوجوان تھے اس لئے بوقت رخصت ان سے فرماتے ہیں کہ پیارے بچو تم سب شہر کے ایک دروازے سے شہر میں نہ جانا بلکہ مختلف دروازوں سے ایک ایک دو دو کر کے جانا ۔ نظر کا لگ جانا حق ہے ۔ گھوڑ سوار کو یہ گرا دیتی ہے ۔ پھر ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ یہ میں جانتا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ یہ تدبیر تقدیر میں ہیر پہیری نہیں کر سکتی ۔ اللہ کی قضا کو کوئی شخص کسی تدبیر سے بدل نہیں سکتا ۔ اللہ کا چاہا پورا ہو کر ہی رہتا ہے ۔ حکم اسی کا چلتا ہے ۔ کون ہے جو اس کے ارادے کو بدل سکے ؟ اس کے فرمان کو ٹال سکے ؟ اس کی قضا کو لوٹا سکے ؟ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور مجھ پر ہی کیا موقوف ہے ۔ ہر ایک توکل کرنے والے کو اسی پر توکل کرنا چاہئے ۔ چنانچہ بیٹوں نے باپ کی فرماں برداری کی اور اسی طرح کئی ایک دروازوں میں بٹ گئے اور شہر میں پہنچے ۔ اس طرح وہ اللہ کی قضا کو لوٹا نہیں سکتے تھے ہاں حضرت یعقوب علیہ السلام نے ایک ظاہری تدبیر پوری کی کہ اس سے وہ نظر بد سے بچ جائیں ۔ وہ ذی علم تھے ، الہامی علم ان کے پاس تھا ۔ ہاں اکثر لوگ ان باتوں کو نہیں جانتے ۔

Select your favorite tafseer