وَ یَسۡتَنۡۢبِئُوۡنَکَ اَحَقٌّ ہُوَ ؕؔ قُلۡ اِیۡ وَ رَبِّیۡۤ اِنَّہٗ لَحَقٌّ ۚؕؔ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿٪۵۳﴾

(53 - یونس)

Qari:


And they ask information of you, [O Muhammad], "Is it true?" Say, "Yes, by my Lord. Indeed, it is truth; and you will not cause failure [to Allah]."

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے۔ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہیں کرسکو گے

[وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ: اور آپ سے پوچھتے ہیں] [اَحَقٌّ: کیا سچ ہے] [ھُوَ : وہ] [قُلْ: آپ کہدیں] [اِيْ: ہاں] [وَرَبِّيْٓ: میرے رب کی قسم] [اِنَّهٗ: بیشک وہ] [لَحَقٌّ: ضرور سچ] [وَمَآ: اور نہیں] [اَنْتُمْ: تم ہو] [بِمُعْجِزِيْنَ: عاجز کرنے والے]

Tafseer / Commentary

مٹی ہو نے کے بعد جینا کیسا ہے؟
پوچھتے ہیں کہ کیا مٹی ہو جانے اور سڑ گل جانے کے بعد جی اٹھنا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہی ہے ؟ تو ان کا شبہ مٹا دے اور قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ سراسر حق ہی ہے۔ جس اللہ نے تہیں اس وقت پیدا کیا جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ وہ تمہیں دوبارہ جب کہ تم مٹی ہو جاؤ گے پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے وہ تو جو چاہتا ہے فرما دیتا ہے کہ یوں ہو جا اسی وقت ہو جاتا ہے اسی مضمون کی اور دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں ۔ سورۃ سبا میں ہے (قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم ۝ڎڎ) 34- سبأ:3) سورۃ تغابن میں ہے ( قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُم ۝) 64- التغابن:7) ان دونوں میں بھی قیامت کے ہونے پر قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے۔ اس دن تو کفار زمین بھر کر سونا اپنے بدلے میں دے کر بھی چھٹکارا پانا پسند کریں گے۔ دلوں میں ندامت ہوگی، عذاب سامنے ہوں گے، حق کے ساتھ فیصلے ہو رہے ہوں گے، کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔

Select your favorite tafseer