اَوَ لَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ وَ کَانُوۡۤا اَشَدَّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعۡجِزَہٗ مِنۡ شَیۡءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَلِیۡمًا قَدِیۡرًا ﴿۴۴﴾

(44 - فاطر)

Qari:


Have they not traveled through the land and observed how was the end of those before them? And they were greater than them in power. But Allah is not to be caused failure by anything in the heavens or on the earth. Indeed, He is ever Knowing and Competent.

کیا انہوں نے زمین میں کبھی سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا حالانکہ وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے۔ اور خدا ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اس کو عاجز کرسکے۔ وہ علم والا (اور) قدرت والا ہے

[اَوَ: کیا] [لَمْ يَسِيْرُوْا : وہ چلے پھرے نہیں] [فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں] [فَيَنْظُرُوْا : سو وہ دیکھتے] [كَيْفَ : کیسا] [كَانَ : ہوا] [عَاقِبَةُ : عاقبت (انجام)] [الَّذِيْنَ : ان لوگوں کا جو] [مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے] [وَكَانُوْٓا : اور وہ تھے] [اَشَدَّ : بہت زیادہ] [مِنْهُمْ : ان سے] [قُوَّةً ۭ : قوت میں] [وَمَا : اور نہیں] [كَانَ : ہے] [اللّٰهُ : اللہ] [لِيُعْجِزَهٗ : کہ اسے عاجز کردے] [مِنْ شَيْءٍ : کوئی شے] [فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں] [وَلَا : اور نہ] [فِي الْاَرْضِ ۭ : زمین میں] [اِنَّهٗ : بیشک وہ] [كَانَ : ہے] [عَلِــيْمًا : علم والا] [قَدِيْرًا : بڑی قدرت والا]

Tafseer / Commentary

عبرت ناک مناظر سے سبق لو ۔
حکم ہوتا ہے کہ ان منکروں سے فرما دیجئے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں تو سہی کہ ان جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا۔ ان کی نعمتیں چھن گئیں، ان کے محلات اجاڑ دیئے گئے، ان کی طاقت تنہا ہو گئی ، ان کے مال تباہ کر دیئے گئے، ان کی اولادیں ہلاک کر دی گئیں، اللہ کے عذاب ان پر سے کسی طرح نہ ٹلے۔ آئی ہوئی مصیبت کو وہ نہ ہٹا سکے، نوچ لئے گئے، تباہ و برباد کر دیئے گئے، کچھ کام نہ آیا، کوئی فائدہ کسی سے نہ پہنچا۔ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا، اسے کوئی امر عاجز نہیں کر سکتا، اس کا کوئی ارادہ کامیابی سے جدا نہیں، اس کا کوئی حکم کسی سے ٹل نہیں سکتا۔ وہ تمام کائنات کا عالم ہے وہ تمام کاموں پر قادر ہے۔ اگر وہ اپنے بندوں کے تمام گناہوں پر پکڑ کرتا تو تمام آسمانوں والے اور زمینوں والے ہلاک ہو جاتے۔ جانور اور رزق تک برباد ہو جاتے۔ جانوروں کو ان کے گھونسلوں اور بھٹوں میں بھی عذاب پہنچ جاتا۔ زمین پر کوئی جانور باقی نہ بچتا۔ لیکن اب ڈھیل دیئے ہوئے ہے عذابوں کو موخر کئے ہوئے ہے وقت آ رہا ہے کہ قیامت قائم ہو جائے اور حساب کتاب شروع ہو جائے۔ اطاعت کا بدلہ اور ثواب ملے۔ نافرمانی کا عذاب اور اس پر سزا ہو ۔ اجل آنے کے بعد پھر تاخیر نہیں ملنے کی۔ اللہ عزوجل اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے اور وہبخوبی دیھنے الا ہے۔

Select your favorite tafseer