وَ الَّذِیۡنَ اجۡتَنَبُوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ یَّعۡبُدُوۡہَا وَ اَنَابُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی ۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِ ﴿ۙ۱۷﴾

(17 - الزمر)

Qari:


But those who have avoided Taghut, lest they worship it, and turned back to Allah - for them are good tidings. So give good tidings to My servants

اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور خدا کی طرف رجوع کیا ان کے لئے بشارت ہے۔ تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو

[وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ] [اجْتَنَبُوا : بچتے رہے] [الطَّاغُوْتَ : سرکش (شیطان)] [اَنْ : کہ] [يَّعْبُدُوْهَا : اس کی پرستش کریں] [وَاَنَابُوْٓا : اور انہوں نے رجوع کیا] [اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف] [لَهُمُ : ان کے لیے] [الْبُشْرٰى ۚ : خوشخبری] [فَبَشِّرْ : سو خوشخبری دیں] [عِبَادِ : میرے بندوں]

Tafseer / Commentary

مروی ہے کہ یہ آیت زید بن عمر بن نفیل، ابو ذر اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ آیت جس طرح ان بزرگوں پر مشتمل ہے اسی طرح ہر اس شخص کو شامل کرتی ہے جس میں یہ پاک اوصاف ہوں یعنی بتوں سے بیزاری اور اللہ کی فرمانبرداری۔ یہ ہیں جن کے لئے دونوں جہان میں خوشیاں ہیں ۔ بات سمجھ کر سن کر جب وہ اچھی ہو تو اس پر عمل کرنے والے مستحق مبارک باد ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تورات کے عطا فرمانے کے وقت فرمایا تھا اسے مضبوطی سے تھامو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ اس کی اچھائی کو مضبوط تھام لیں ۔ عقلمند اور نیک راہ لوگوں میں بھلی باتوں کے قبول کرنے کا صحیح مادہ ضرور ہوتا ہے۔

Select your favorite tafseer