اِذۡ تَلَقَّوۡنَہٗ بِاَلۡسِنَتِکُمۡ وَ تَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاہِکُمۡ مَّا لَیۡسَ لَکُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ وَّ تَحۡسَبُوۡنَہٗ ہَیِّنًا ٭ۖ وَّ ہُوَ عِنۡدَ اللّٰہِ عَظِیۡمٌ ﴿۱۵﴾

(15 - النور)

Qari:


When you received it with your tongues and said with your mouths that of which you had no knowledge and thought it was insignificant while it was, in the sight of Allah, tremendous.

جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی

[اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ: جب تم لاتے تھے اسے] [بِاَلْسِنَتِكُمْ: اپنی زبانوں پر] [وَتَــقُوْلُوْنَ: اور تم کہتے تھے] [بِاَفْوَاهِكُمْ: اپنے منہ سے] [مَّا لَيْسَ: جو نہیں] [لَكُمْ: تمہیں] [بِهٖ: اس کا] [عِلْمٌ: کوئی علم] [وَّتَحْسَبُوْنَهٗ: اور تم اسے گمان کرتے تھے] [هَيِّنًا: ہلکی بات] [وَّهُوَ: حالانکہ وہ] [عِنْدَ اللّٰهِ: اللہ کے نزدیک] [عَظِيْمٌ: بہت بڑی (بات)]

Tafseer / Commentary

فرمان ہے کہ اے وہ لوگوں جنہوں نے صدیقہ کی بابت اپنی زبانوں کو بری حرکت دی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا کہ وہ دنیا میں تمہاری توبہ کو قبول کر لے اور آخرت میں تمہیں تمہارے ایمان کی وجہ سے معاف فرما دے تو جس بہتان میں تم نے اپنی زبانیں ہلائیں اس میں تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا ۔ یہ آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جن کے دلوں میں ایمان تھا لیکن رواداری میں کچھ کہہ گئے تھے جیسے حضرت مسطع حضرت حسان ، حضرت حمنہ رضی اللہ عنہم ۔ لیکن جن کے دل ایمان سے خالی تھے جو اس طوفان کے اٹھانے والے تھے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین یہ لوگ اس حکم میں نہیں تھے ۔ کیونکہ نہ اس کے پاس ایمان تھا نہ عمل صالح ۔ یہ بھی یادرہے کہ جس بدی پر جو وعید ہے وہ اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب توبہ نہ ہو اور اس کے مقابلہ میں اس جیسی یا اس سے بڑی نیکی نہ ہو ۔ جب کہ تم اس بات کو پھیلا رہے تھے ، اس سے سن کر اس سے کہی اور اس نے سن کر دوسرے سے کہی ۔ حضرت عائشہ کی قرأت میں اذا تلقونہ ہے یعنی جب کہ تم اس جھوٹ کی اشاعت کر رہے تھے ۔ پہلی قرأت جمہور کی ہے۔ اور یہ قرأت ان کی ہے جنہیں اس آیت کا زیادہ علم تھا ۔ اور تم وہ بات زبان سے نکالتے تھے ، جس کا تمہیں علم نہ تھا ۔ تم گو اس کلام کو ہلکا سمجھتے رہے ، لیکن دراصل اللہ کے نزدیک وہ بڑا بھاری کلام تھا ۔ کسی مسلمان عورت کی نسبت ایسی تہمت جرم عظیم ہے ۔ پھر اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زوجہ مطہرہ کے اوپر ایسا کلمہ ، سمجھ لو کہ کتنا بڑا کبیرا گناہ ہوا ؟ اسی لئے رب کی غیرت اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی وجہ سے جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما کر خاتم الانبیاء سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پاکیزگی ثابت فرمائی ۔ ہر نبی علیہ السلام کی بیوی کو اللہ تعالیٰ نے اس بےحیائی سے دور رکھا ہے پس کیسے ممکن تھا کہ تمام نبیوں کی بیویوں سے افضل اور ان کی سردار ۔ تمام نبیوں سے افضل اور تمام اولاد آدم کے سردار حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیوی اس میں آلودہ ہوں ۔ حاشا وکلا ۔ پس تم گو اس کلام کو بےوقعت سمجھو لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ انسان بعض مرتبہ اللہ کی ناراضگی کا کوئی کلمہ کہہ کر گزرتا ہے ، جس کی کوئی وقعت اس کے نزدیک نہیں ہوتی لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم کے اتنے نیچے طبقے میں پہنچ جاتا ہے کہ جتنی نیچی زمین آسمان سے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نیچا ہوتا ہے ۔

Select your favorite tafseer