| Qari: |
And who is more unjust than one who is reminded of the verses of his Lord but turns away from them and forgets what his hands have put forth? Indeed, We have placed over their hearts coverings, lest they understand it, and in their ears deafness. And if you invite them to guidance - they will never be guided, then - ever.
اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اُس نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو رستے کی طرف بلاؤ تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے
[وَمَنْ: اور کون] [اَظْلَمُ: بڑا ظالم] [مِمَّنْ: اس سے جو] [ذُكِّرَ: سمجھایا گیا] [بِاٰيٰتِ: آیتوں سے] [رَبِّهٖ: اس کا رب] [فَاَعْرَضَ: تو اس نے منہ پھیر لیا] [عَنْهَا: اس سے] [وَنَسِيَ: اور وہ بھول گیا] [مَا قَدَّمَتْ: جو آگے بھیجا] [يَدٰهُ: اس کے دونوں ہاتھ] [اِنَّا جَعَلْنَا: بیشک ہم نے ڈال دئیے] [عَلٰي قُلُوْبِهِمْ: ان کے دلوں پر] [اَكِنَّةً: پردے] [اَنْ: کہ] [يَّفْقَهُوْهُ: وہ اسے سمجھ سکیں] [وَ: اور] [فِيْٓ: میں] [اٰذَانِهِمْ: ان کے کان] [وَقْرًا: گرانی] [وَاِنْ: اور اگر] [تَدْعُهُمْ: تم انہیں بلاؤ] [اِلَى: طرف] [الْهُدٰى: ہدایت] [فَلَنْ: تو وہ ہرگز] [يَّهْتَدُوْٓا: نہ پائیں ہدایت] [اِذًا: جب بھی] [اَبَدًا: کبھی بھی]
بد ترین شخص کون ہے ؟
فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے ؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں انہیں بھی فراموش کر جائے ۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑ جاتے ہیں پھر قرآن و بیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا کانوں میں گرانی ہو جاتی ہے بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے ۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے اگر وہ گنہگار کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا ، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچتا وہ لوگوں کے ظلم سے درگزر کر رہا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پکڑے گا ہی نہیں ۔ یاد رکھو وہ سخت عذابوں والا ہے یہ تو اس کا حلم ہے پردہ پوشی ہے معافی ہے تاکہ گمراہی والے راہ راست پر آ جائیں گناہوں والے توبہ کرلیں اور اس کے دامن رحمت کو تھام لیں ۔ لیکن جس نے اس حلم سے فائدہ اٹھایا اور اپنی سرکشی پر جما رہا تو اس کی پکڑ کا دن قریب ہے جو اتنا سخت دن ہوگا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے حمل گر جائیں گے اس دن کوئی جائے پناہ نہ ہوگی کوئی چھٹکارے کی صورت نہ ہوگی ۔ یہ ہیں تم سے پہلے کی امتیں کہ وہ بھی تمہاری طرح کفر و انکار میں پڑ گئیں اور آخرش مٹا دی گئیں ان کی ہلاکت کا مقررہ وقت آ پہنچا اور وہ تباہ برباد ہو گئیں ۔ پس اے منکرو تم بھی ڈرتے رہو تم اشرف الرسل اعظم ہی کو ستا رہے اور انہیں جھٹلا رہے ہو حالانکہ اگلے کفار سے تم قوت طاقت میں سامان اسباب میں بہت کم ہو میرے عذابوں سے ڈرو میری باتوں سے نصیحت پکڑو ۔