قُلۡ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَمَّا جَآءَنِیَ الۡبَیِّنٰتُ مِنۡ رَّبِّیۡ ۫ وَ اُمِرۡتُ اَنۡ اُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۶﴾

(66 - الغافر)

Qari:


Say, [O Muhammad], "Indeed, I have been forbidden to worship those you call upon besides Allah once the clear proofs have come to me from my Lord, and I have been commanded to submit to the Lord of the worlds."

(اے محمدﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھے اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ان کی پرستش کروں (اور میں ان کی کیونکر پرستش کروں) جب کہ میرے پاس میرے پروردگار (کی طرف) سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ پروردگار عالم ہی کا تابع فرمان ہوں

[قُلْ : فرمادیں] [اِنِّىْ نُهِيْتُ : مجھے منع کردیاگیا ہے] [اَنْ : کہ] [اَعْبُدَ : پرستش کروں میں] [الَّذِيْنَ : وہ جن کی] [تَدْعُوْنَ : تم پوجا کرتے ہو] [مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا] [لَمَّا : جب ] [جَاۗءَنِيَ : میرے پاس آگئیں] [الْبَيِّنٰتُ : کھلی نشانیاں] [مِنْ رَّبِّيْ ۡ : میرے رب سے] [وَاُمِرْتُ : اور مجھے حکم دیاگیا] [اَنْ اُسْلِمَ : کہ میں اپنی گردن جھکادوں] [لِرَبِّ : پروردگار کیلئے] [الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہان]

Tafseer / Commentary

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مشرکین کو دعوت توحید۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں ۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے ، جس میں فرمایا کہ اسی وحدہ لاشریک لہ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر ہو جاتے ہیں ۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے؟ بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں ۔ یعنی کچے پنے میں ہی گر جاتے ہیں ۔ حمل ساقط ہو جاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں ۔ چنانچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے ( وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۝) 22- الحج:5) یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں ۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو ۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے ، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں ۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں ، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہوجائے۔

Select your favorite tafseer