| Qari: |
And, [O Muhammad], you are not [engaged] in any matter or recite any of the Qur'an and you [people] do not do any deed except that We are witness over you when you are involved in it. And not absent from your Lord is any [part] of an atom's weight within the earth or within the heaven or [anything] smaller than that or greater but that it is in a clear register.
اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
[وَمَا تَكُوْنُ: اور نہیں ہوتے تم] [فِيْ شَاْنٍ: کسی حال میں] [وَّمَا تَتْلُوْا: اور نہیں پڑھتے] [مِنْهُ: اس سے] [مِنْ: سے۔ کچھ] [قُرْاٰنٍ: قرآن] [وَّلَا تَعْمَلُوْنَ: اور نہیں کرتے] [مِنْ عَمَلٍ: کوئی عمل] [اِلَّا: مگر] [كُنَّا: ہم ہوتے ہیں] [عَلَيْكُمْ: تم پر] [شُهُوْدًا: گواہ] [اِذْ تُفِيْضُوْنَ: جب تم مشغول ہوتے ہو] [فِيْهِ: اس میں] [وَمَا يَعْزُبُ: اور نہیں غائب] [عَنْ: سے] [رَّبِّكَ: تمہارا رب] [مِنْ: سے] [مِّثْقَالِ: برابر] [ذَرَّةٍ: ایک ذرہ] [فِي الْاَرْضِ: زمین میں] [وَلَا: اور نہ] [فِي السَّمَاۗءِ: آسمان میں] [وَلَآ: اور نہ] [اَصْغَرَ: چھوٹا] [مِنْ: سے] [ذٰلِكَ: اس] [وَلَآ: اور نہ] [اَكْبَرَ: بڑا] [اِلَّا: مگر] [فِيْ: میں] [كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ: کتاب روشن]
اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور دیکھتا ہے
اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خبر دیتا ہے کہ خود آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تمام امت کے تمام احوال ہر وقت اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ ساری مخلوق کے کل کام اس کے علم میں ہیں ۔ اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے آسمان و زمین کا کوئی ذرہ بھی پوشیدہ نہیں ۔ سب چھوٹی بڑی چیزیں ظاہر کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ۔ جیسے فرمان ہے ( وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ ۭ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۭ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ 59) 6- الانعام:59) غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں ۔ جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ وہ خشکی و تری کی ہر چیز کا علم رکھتا ہے ہر پتے کے جھڑنے کی اسے خبر ہے۔ زمین کے اندھیروں میں جو دانہ ہو، جو تر و خشک چیز ہو، سب کتاب مبین میں موجود ہے۔ الغرض درختوں کا ہلنا۔ جمادات کا ادھر ادھر ہونا، جانداروں کا حرکت کرنا، کوئی چیز روئے زمین کی اور تمام آسمانوں کی ایسی نہیں، جس سے علیم و خبیر اللہ بےخبر ہو ۔ فرمان ہے ( وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ ۭمَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ 38) 6- الانعام:38) ایک اور آیت میں ہے کہ زمین کے ہر جاندار کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہے۔ جب کہ درختوں، ذروں جانوروں اور تمام تر و خشک چیزوں کے حال سے اللہ عزوجل واقف ہے بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ بندوں کے اعمال سے وہ بےخبر ہو ۔ جنہیں عبادت رب کی بجا آوری کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمان ہے اس ذی عزت بڑے رحم وکرم والے اللہ پر تو بھروسہ رکھ جو تیرے قیام کی حالت میں تجھے دیکھتا رہتا ہے سجدہ کرنے والوں میں تیرا آنا جانا بھی دیکھ رہا ہے۔ یہی بیان یہاں ہے کہ تم سب ہماری آنکھوں اور کانوں کے سامنے ہو ۔ حضرت جبرائیل نے جب حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے احسان کی بابت سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہی فرمایا کہ اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے یقیناً دیکھ ہی رہا ہے