وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا مَکَانَکُمۡ اَنۡتُمۡ وَ شُرَکَآؤُکُمۡ ۚ فَزَیَّلۡنَا بَیۡنَہُمۡ وَ قَالَ شُرَکَآؤُہُمۡ مَّا کُنۡتُمۡ اِیَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۲۸﴾

(28 - یونس)

Qari:


And [mention, O Muhammad], the Day We will gather them all together - then We will say to those who associated others with Allah, "[Remain in] your place, you and your 'partners.' " Then We will separate them, and their "partners" will say, "You did not used to worship us,

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے

[وَيَوْمَ: اور جس دن] [نَحْشُرُھُمْ: ہم اکٹھا کرینگے انہیں] [جَمِيْعًا: سب] [ثُمَّ: پھر] [نَقُوْلُ: ہم کہیں گے] [لِلَّذِيْنَ: ان لوگوں کو] [اَشْرَكُوْا: جنہوں نے شرک کیا] [مَكَانَكُمْ: اپنی جگہ] [اَنْتُمْ: تم] [وَشُرَكَاۗؤُكُمْ: اور تمہارے شریک] [فَزَيَّلْنَا: پھر ہم جدائی ڈال دیں گے] [بَيْنَھُمْ: ان کے درمیان] [وَقَالَ: اور کہیں گے] [شُرَكَاۗؤُھُمْ: ان کے شریک] [مَّا كُنْتُمْ: تم نہ تھے] [اِيَّانَا: ہماری] [تَعْبُدُوْنَ: تم بندگی کرتے]

Tafseer / Commentary

میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے
مومن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ سب کا حشر ہوگا، ایک بھی باقی نہ رہے گا۔ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کر دیا جائے گا۔ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہو جائے گی ، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہو جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے۔ یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی، مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بےزاری ظاہر کریں گے اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہو جائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے۔ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے۔ اسے اللہ خوب جانتا ہے، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے۔ تم اندھی، نہ سنتی، بیکار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بےخبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم۔ بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے۔ اس حی و قیوم ، سمیع و بصیر ، قادر و مالک وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ تھا۔ جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو ۔ سوائے میرے کوئی پوجا کے لائق نہیں ۔ ہر قسم کے شرک سے بچو ۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو ۔ وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا۔ اپنی بھلائی برائی معلوم کر لے گا۔ نیک و بد سامنے آجائے گا۔ اسرار بےنقاب ہوں گے، کھل پڑیں گے، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی۔ آپ اپنا حساب کر لے گا۔ تبلوا کی دوسری قرات تتلوا بھی ہے۔ اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا۔ حدیث میں ہے ہر امت کو حکم ہوگا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہو جائے۔ سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے، چاند پرست چاند کے پیچھے ، بت پرست بتوں کے پیچھے۔ سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا۔ مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی، بھرم کھل جائیں گے، پردے اٹھ جائیں گے۔

Select your favorite tafseer