یٰزَکَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِۣ اسۡمُہٗ یَحۡیٰی ۙ لَمۡ نَجۡعَلۡ لَّہٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِیًّا ﴿۷﴾

(7 - مریم)

Qari:


[He was told], "O Zechariah, indeed We give you good tidings of a boy whose name will be John. We have not assigned to any before [this] name."

اے زکریا ہم تم کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا

[يٰزَكَرِيَّآ: اے زکریا] [اِنَّا: بیشک ہم] [نُبَشِّرُكَ: تجھے بشارت دیتے ہیں] [بِغُلٰمِ: ایک لڑکا] [اسْمُهٗ: اس کا نام] [يَحْــيٰى: یحییٰ] [لَمْ نَجْعَلْ: نہیں بنایا ہم نے] [لَّهٗ: اس کا] [مِنْ قَبْلُ: اس سے قبل] [سَمِيًّا: کوئی ہم نام]

Tafseer / Commentary

دعا قبول ہوئی ۔
حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا مقبول ہوتی ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ آپ ایک بچے کی خوشخبری سن لیں جس کا نام یحییٰ ہے جیسے اور آیت میں ہے ( ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ 38؀) 3- آل عمران:38) ، میں حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنے پاس سے بہتری اولاد عطا فرما تو دعاؤں کا سننے والا ہے ۔ فرشتوں نے انہیں آواز دی اور وہ اس وقت کی نماز کی جگہ میں کھڑے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے جو سردار ہوگا اور پاکباز ہوگا اور نبی ہوگا اور پورے نیک کار اعلیٰ درجے کے بھلے لوگوں میں سے ہوگا ۔ یہاں فرمایا کہ ان سے پہلے اس نام کا کوئی اور انسان نہیں ہوا ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مشابہ کوئی اور نہ ہوگا یہی معنی سمیا کے آیت (هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا 65؀ۧ) 19- مريم:65) میں ہے ۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اس سے پہلے کسی بانجھ عورت سے ایسی اولاد نہیں ہوئی ۔ حضرت زکریا کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی ۔ آپ کی بیوی صاحبہ بھی شروع عمر سے بےاولاد تھیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت سارہ علیہما السلام نے بھی بچے کے ہونے کی بشارت سن کر بیحد تعجب کیا تھا لیکن ان کے تعجب کی وجہ ان کا بےاولاد ہونا اور بانجھ ہونا نہ تھی ۔ بلکہ بہت زیادہ بڑھاپے میں اولاد کا ہونا یہ تعجب کی وجہ تھی اور حضرت زکریا علیہ السلام کے ہاں تو اس پورے بڑھاپے تک کوئی اولاد ہوئی نہ تھی اس لئے حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مجھے اس انتہائی بڑھاپے میں تم اولاد کی خبر کیسے دے رہے ہو ؟ ورنہ اس سے تیرہ سال پہلے آپ کے ہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام ہوئے تھے آپ کی بیوی صاحبہ نے بھی خوشخبری کو سن کر تعجب سے کہا تھا کہ کیا اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں میرے ہاں اولاد ہوگی؟ ساتھ ہی میرے میاں بھی غایت درجے کے بوڑھے ہیں ۔ یہ تو سخت تر تعجب خیز چیز ہے ۔ یہ سن کر فرشتوں نے کہا کہ کیا تمہیں امر الہٰی سے تعجب ہے ؟ اے ابراہیم کے گھرانے والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں اللہ تعریفوں اور بزرگیوں والا ہے۔

Select your favorite tafseer