قُلۡ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۳﴾

(13 - الزمر)

Qari:


Say, "Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day."

کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کا حکم نہ مانوں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے

[قُلْ : فرمادیں] [اِنِّىْٓ اَخَافُ : بیشک میں ڈرتا ہوں] [اِنْ : اگر] [عَصَيْتُ : میں نافرمانی کروں] [رَبِّيْ : اپنا پروردگار] [عَذَابَ : عذاب] [يَوْمٍ عَظِيْمٍ: ایک بڑا دن]

Tafseer / Commentary

حکم ہوتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں لیکن عذاب الٰہی سے بےخوف نہیں ہوں ۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہئے۔ تم اپنے دین کا بھی اعلان کر دو کہ میں پختہ اور یکسوئی والا موحد ہوں ۔ تم جس کی چاہو عبادت کرتے رہو ۔ اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ اجازت۔ پورے نقصان میں وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو نقصان میں پھنسا دیا۔ قیامت کے دن ان میں جدائی ہو جائے گی۔ اگر ان کے اہل جنت میں گئے تو یہ دوزخ میں جل رہے ہیں اور ان سے الگ ہیں اور اگر سب جہنم میں گئے تو وہاں برائی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور رہیں اور محزون و مغموم ہیں ۔ یہی واضح نقصان ہے۔ پھر ان کا حال جو جہنم میں ہوگا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اوپر تلے آگ ہی آگ ہو گی۔ جیسے فرمایا ( لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ 41؀) 7- الاعراف:41) یعنی ان کا اوڑھنا بچھونا سب آتش جہنم سے ہو گا۔ ظالموں کا یہی بدلہ ہے اور آیت میں ہے قیامت والے دن انہیں نیچے اوپر سے عذاب ہو رہا ہو گا۔ اور اوپر سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کا مزہ چکھو ۔ یہ اس لئے ظاہر و باہر کر دیا گیا اور کھول کھول کر اس وجہ سے بیان کیا گیا کہ اس حقیقی عذاب سے جو یقینا آنے والا ہے میرے بندے خبردار ہو جائیں اور گناہوں اور نافرمانیوں کو چھوڑ دیں ۔ میرے بندو میری پکڑ دکڑ سے میرے عذاب و غضب سے میرے انتقام اور بدلے سے ڈرتے رہو ۔

Select your favorite tafseer