| Qari: |
And whenever a surah is revealed, there are among the hypocrites those who say, "Which of you has this increased faith?" As for those who believed, it has increased them in faith, while they are rejoicing.
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق (استہزاء کرتے اور) پوچھتے کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے۔ سو جو ایمان والے ہیں ان کا ایمان تو زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں
[[وَاِذَا مَآ: اور جب] [اُنْزِلَتْ: نازل کی جاتی ہے] [سُوْرَةٌ: کوئی سورۃ] [فَمِنْھُمْ: تو ان میں سے] [مَّنْ: بعض] [يَّقُوْلُ: کہتے ہیں] [اَيُّكُمْ: تم میں سے کسی] [زَادَتْهُ: زیادہ کردیا اس کا] [هٰذِهٖٓ: اس نے] [اِيْمَانًا: ایمان] [فَاَمَّا: سو جو] [الَّذِيْنَ: وہ لوگ جو] [اٰمَنُوْا: وہ ایمان لائے] [فَزَادَتْھُمْ: اس نے زیادہ کردیا ان کا] [اِيْمَانًا: ایمان] [وَّھُمْ: اور وہ] [يَسْتَبْشِرُوْنَ: خوشیاں مناتے ہیں]
فرمان الہٰی میں شک و شبہ کفر کا مرض ہے
قرآن کی کوئی سورت اتری اور منافقوں نے آپس میں کانا پھوسی شروع کی کہ بتاؤ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کر دیا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمانداروں کے ایمان تو اللہ کی آیتیں بڑھا دیتی ہیں ۔ یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس پر کہ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ اکثر ائمہ اور علماء کا یہی مذہب ہے، سلف کا بھی اور خلف کا بھی۔ بلکہ بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو خوب تفصیل سے شرح بخاری کے شروع میں بیان کر آئے ہیں ۔ ہاں جن کے دل پہلے ہی سے شک و شبہ کی بیماری میں ہیں ان کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قرآن مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے لیکن کافر تو اس سے اور بھی اپنا نقصان کر لیا کرتے ہیں ۔ یہ ایمانداروں کے لئے ہدایت و شفا ہے بےایمانوں کے تو کانوں میں بوجھ ہے۔ ان کی آنکھوں پر اندھاپا ہے وہ تو بہت ہی فاصلے سے پکارے جا رہے ہیں ۔ یہ بھی کتنی بڑی بدبختی ہے کہ دلوں کی ہدایت کی چیز بھی ان کی ضلالت و ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عمدہ غذا بھی بد مزاج کو موافق نہیں آتی۔