| Qari: |
Never think that the disbelievers are causing failure [to Allah] upon the earth. Their refuge will be the Fire - and how wretched the destination.
اور ایسا خیال نہ کرنا کہ تم پر کافر لوگ غالب آجائیں گے (وہ جا ہی کہاں سکتے ہیں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے
[لَا تَحْسَبَنَّ: ہرگز گمان نہ کریں] [الَّذِيْنَ كَفَرُوْا: وہ جنہوں نے کفر کیا (کافر)] [مُعْجِزِيْنَ: عاجز کرنے والے ہیں] [فِي الْاَرْضِ: زمین میں] [وَمَاْوٰىهُمُ: اور ان کا ٹھکانہ] [النَّارُ: دوزخ] [وَلَبِئْسَ: اور البتہ برا] [الْمَصِيْرُ: ٹھکانہ]
صلوۃ اور حسن سلوک کی ہدایات
اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کو صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ اسی کے لئے نمازیں پڑھتے رہو ۔ اور ساتھ ہی اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہو ۔ ضعیفوں ، مسکینوں ، فقیروں کی خبر گیری کرتے رہو ۔ مال میں سے اللہ کا حق یعنی زکوٰۃ نکالتے رہو ۔ اور ہر امر میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرتے رہو ۔ جس بات کا وہ حکم فرمائے لاؤ جس امر سے وہ روکیں رک جاؤ ۔ یقین مانوکہ اللہ کی رحمت کے حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے ۔ چنانچہ اور آیت میں ہے (اُولٰۗىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 71) 9- التوبہ:71) اللہ یہی لوگ ہیں جن پر ضرور بضرور اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ گمان نہ کرنا کہ آپ کو جھٹلانے والے اور آپ کی نہ ماننے والے ہم پر غالب آجائیں گے یا ادھر ادھر بھاگ کر ہمارے بےپناہ عذابوں سے بچ جائیں گے ۔ ہم تو ان کا اصلی ٹھکانہ جہنم میں مقرر کر چکے ہیں جو نہایت بری جگہ ہے ۔ قرار گاہ کے اعتبار اور بازگشت کے اعتبار سے بھی ۔