اِنَّ الَّذِیۡنَ یَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ لُعِنُوۡا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۪ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۲۳﴾

(23 - النور)

Qari:


Indeed, those who [falsely] accuse chaste, unaware and believing women are cursed in this world and the Hereafter; and they will have a great punishment

جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بےخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا وآخرت (دونوں) میں لعنت ہے۔ اور ان کو سخت عذاب ہوگا

[اِنَّ: بیشک] [الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ: جو لوگ تہمت لگاتے ہیں] [الْمُحْصَنٰتِ: پاکدامن (جمع)] [الْغٰفِلٰتِ: بھولی بھالی انجان] [الْمُؤْمِنٰتِ: مومن عورتیں] [لُعِنُوْا: لعنت ہے ان پر] [فِي الدُّنْيَا: دنیا میں] [وَالْاٰخِرَةِ: اور آخرت] [وَلَهُمْ: اور ان کے لیے] [عَذَابٌ: عذاب] [عَظِيْمٌ: بڑا]

Tafseer / Commentary

دولت مند افراد سے خطاب
تم میں سے جو کشادہ روزی والے ، صاحب مقدرت ہیں ۔ صدقہ اور احسان کرنے والے ہیں انہیں اس بات کی قسم نہ کھانی چاہئے کہ وہ اپنے قرابت داروں ، مسکینوں ، مہاجروں کو کچھ دیں گے ہی نہیں ۔ اس طرح انہیں متوجہ فرما کر پھر اور نرم کرنے کے لئے فرمایا کہ ان کی طرف سے کوئی قصور بھی سرزد ہوگیا ہو تو انہیں معاف کر دینا چاہئے ۔ ان سے کوئی ایذاء یا برائی پہنچی ہو تو ان سے درگزر کر لینا چاہئے ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم وکرم اور لطف رحم ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو بھلائی کا ہی حکم دیتا ہے ۔ یہ آیت حضرت صدیق (رض) کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ نے حضرت مسطح بن اثاثہ (رض) کے ساتھ کسی قسم کا سلوک کرنے کی قسم کھالی تھی کیونکہ بہتان صدیقہ میں یہ بھی شامل تھے ۔ جیسے کہ پہلے کی آیتوں کی تفسیر میں یہ واقعہ گزر چکا ہے تو جب حقیقت اللہ تعالیٰ نے ظاہر کر دی ، ام المومنین بری ہوگئیں ، مسلمانوں کے دل روشن ہوگئے ، مومنوں کی توبہ قبول ہوگئی ، تہمت رکھنے والوں میں سے بعض کو حد شرعی لگ چکی ۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت صدیق کو حضرت مسطح کی طرف متوجہ فرمایا جو آپ کی خالہ صاحبہ کے فرزند تھے اور مسکین شخص تھے ۔ حضرت صدیق ہی ان کی پرورش کرتے رہتے تھے ، یہ مہاجر تھے لیکن اس بارے میں اتفاقیہ زبان کھل گئی تھی ۔ انہیں تہمت کی حد لگائی گئی تھی ۔ حضرت صدیق (رض) کی سخاوت مشہور تھی ۔ کیا اپنے کیا غیر سب کے ساتھ آپ کا حسن سلوک عام تھا۔ آیت کے یہ خصوصی الفاظ حضرت صدیق (رض) کے کان میں پڑے کہ کیا تم بخشش الہی کے طالب نہیں ہو ؟ آپ کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ ہاں قسم ہے اللہ کی ہماری تو عین چاہت ہے کہ اللہ ہمیں بخشے اور اسی وقت سے مسطح کو جو کچھ دیا کرتے تھے ، جاری کر دیا ۔ گویا ان آیتوں میں ہمیں تلقین ہوئی کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تقصیریں معاف ہوجائیں ۔ ہمیں چاہئے کہ دوسروں کی تقصیروں سے بھی درگزر کر لیا کریں ۔ یہ بھی خیال میں رہے کہ جس طرح آپ نے پہلے یہ فرمایا تھا کہ واللہ میں اس کے ساتھ کبھی بھی سلوک نہ کروں گا ۔ اب عہد کیا کہ واللہ میں اس سے کبھی بھی اس کا مقررہ روزینہ نہ روکوں گا ۔ سچ ہے صدیق صدیق ہی تھے (رض) ۔

Select your favorite tafseer