وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۲﴾ۚۖ

(182 - الاعراف)

Qari:


But those who deny Our signs - We will progressively lead them [to destruction] from where they do not know.

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا

[وَالَّذِيْنَ: اور وہ لوگ جو] [كَذَّبُوْا: انہوں نے جھٹلایا] [بِاٰيٰتِنَا: ہماری آیات کو] [سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ: آہستہ آہستہ ان کو پکڑیں گے] [مِّنْ حَيْثُ: اس طرح] [لَا يَعْلَمُوْنَ: وہ نہ جانیں گے (خبر نہ ہوگی)]

Tafseer / Commentary

سامان تعیش کی کثرت عتاب الٰہی بھی ہے
یعنی ایسے لوگوں کو روزی میں کشادی دی جائے گی ، معاش کی آسانیاں ملیں گی، وہ دھوکے میں پڑ جائیں گے اور حقانیت کو بھول جائیں گے ۔ جب پورے مست ہو جائیں گے اور ہماری نصیحت کو گئی گذری کر دیں گے تو ہم انہیں ہر طرح کے آرام دیں گے یہاں تک کہ وہ مست ہو جائیں تب انہیں ہم ناگہانی پکڑ میں پکڑ لیں گے ۔ اس وقت وہ مایوسی کے ساتھ منہ تکتے رہ جائیں گے اور ان ظالموں کی رگ کٹ جائے گی ۔ حقیقتاً تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ انہیں میں تو ڈھیل دونگا اور یہ میرے اس داؤ سے بےخبر ہوں گے ۔ میری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی وہ بڑی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے ۔

Select your favorite tafseer