وَ مَا کَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَۃٍ وَّعَدَہَاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗۤ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنۡہُ ؕ اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾

(114 - التوبۃ)

Qari:


And the request of forgiveness of Abraham for his father was only because of a promise he had made to him. But when it became apparent to Abraham that his father was an enemy to Allah, he disassociated himself from him. Indeed was Abraham compassionate and patient.

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے

[وَمَا كَانَ: اور نہ تھا] [اسْتِغْفَارُ: بخشش چاہنا] [اِبْرٰهِيْمَ: ابراہیم] [لِاَبِيْهِ اِلَّا: مگر] [عَنْ مَّوْعِدَةٍ: ایک وعدہ کے سبب] [وَّعَدَھَآ: جو اس نے وعدہ کیا] [اِيَّاهُ: اس سے] [فَلَمَّا: پھر جب] [تَـبَيَّنَ: ظاہر ہوگیا] [لَهٗٓ: اس پر] [اَنَّهٗ: کہ وہ] [عَدُوٌّ لِّلّٰهِ: اللہ کا دشمن] [تَبَرَّاَ: وہ بیزار ہوگیا] [مِنْهُ: اس سے] [اِنَّ: بیشک] [اِبْرٰهِيْمَ: ابراہیم] [لَاَوَّاهٌ: نرم دل] [حَلِيْمٌ: بردبار]

Tafseer / Commentary

Select your favorite tafseer