| Qari: |
To Him [alone] is the supplication of truth. And those they call upon besides Him do not respond to them with a thing, except as one who stretches his hands toward water [from afar, calling it] to reach his mouth, but it will not reach it [thus]. And the supplication of the disbelievers is not but in error [i.e. futility].
سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے
[لَهٗ: اس کو] [دَعْوَةُ: پکارنا] [الْحَقِّ: حق] [وَالَّذِيْنَ: اور جن کو] [يَدْعُوْنَ: وہ پکارتے ہیں] [مِنْ دُوْنِهٖ: اس کے سوا] [لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ: وہ جواب نہیں دیتے] [لَهُمْ: ان کو] [بِشَيْءٍ: کچھ بھی] [اِلَّا: مگر] [كَبَاسِطِ: جیسے پھیلا دے] [كَفَّيْهِ: اپنی ہتھیلیاں] [اِلَى الْمَاۗءِ: پانی کی طرف] [لِيَبْلُغَ: تاکہ پہنچ جائے] [فَاهُ: اس کے منہ تک] [وَمَا: اور نہیں] [هُوَ: وہ] [بِبَالِغِهٖ: اس تک پہنچنے والا] [وَمَا: اور نہیں] [دُعَاۗءُ: پکار] [الْكٰفِرِيْنَ: کافر (جمع)] [اِلَّا: سوائے] [فِيْ: میں] [ضَلٰلٍ: گمراہی]
دعوت حق
حضرت علی بن ابو طالب (رض) فرماتے ہیں اللہ کے لئے دعوت حق ہے ، اس سے مراد توحید ہے ۔ محمد بن منکدر کہتے ہیں مراد لا الہ الا اللہ ہے ۔ پھر مشرکوں کافروں کی مثال بیان ہوئی کہ جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منہ میں خود بخود پہنچ جائے تو ایسا نہیں ہونے کا ۔ اسی طرح یہ کفار جنہیں پکارتے ہیں اور جن سے امیدیں رکھتے ہیں ، وہ ان کی امیدیں پوری نہیں کرنے کے ۔ اور یہ مطلب بھی ہے کہ جیسے کوئی اپنی مٹھیوں میں پانی بند کر لے تو وہ رہنے کا نہیں ۔ پس باسط قابض کے معنی میں ہے ۔ عربی شعر میں بھی قابض ماء آیا ہے پس جیسے پانی مٹھی میں روکنے والا اور جیسے پانی کی طرف ہاتھ پھیلانے والا پانی سے محروم ہے ، ایسے ہی یہ مشرک اللہ کے سوا دوسروں کو گو پکاریں لیکن رہیں گے محروم ہی دین دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نہ پہنچے گا ۔ ان کی پکار بےسود ہے ۔